ابنا: ہیومن رائٹس واچ نے ایک بیان میں یمن پر امریکی جارحیت بالخصوص ڈرون جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حملوں میں دسیوں عام شہری مارے جارہے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کے بیان میں امریکہ کے ان حملوں کو غیرقانونی قرار دیا گيا ہے۔ اس بیان میں آیا ہے کہ امریکہ نے جن علاقوں پر القاعدہ کے عناصر پر حملے کرنے کا دعوی کیا ہے کہ ان میں بیاسی افراد منجملہ باون عام شہری مارے گئے ہیں۔ادھر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی پاکستان پر امریکہ کی ڈرون جارحیت کی مذمت کی ہے۔ پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنشنل نے ایک رپورٹ میں پاکستان پر امریکی ڈرون حملوں کے ساتھ ساتھ اس مسئلے کے تعلق سے اسلام آباد کی متضاد پالیسیوں کی مذمت کی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ساٹھ صفحات پر مشتمل رپورٹ میں امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اپنے ڈروں حملوں کی تفصیلات شایع کرے تا کہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ حملے عالمی قوانین کے مطابق ہیں یا نہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ڈرون حملوں کو امریکہ کی شکست فاش سے تعبیر کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈرون حملوں کے ذمہ دار افسروں پر مقدمہ چلا کر قرار واقعی سزا دے اور ان حملوں میں مارے جانے والوں کے اہل خانہ کو ہرجانہ ادا کرے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے امریکہ کے ڈرون حملوں کے تعلق سے پاکستان کی متضاد پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک طرف تو ان حملوں کو اپنے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے اور خصوصی نشستوں میں ان حملوں کو مفید بھی کہتا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے امریکہ کے ڈرون حملوں میں آسٹریلیا، جرمنی اور برطانیہ کی معاونت کی بھی مذمت کی ہے۔
.......
/169